6 اکتوبر 2013 - 20:30
مصر کی پیچیدہ صورتحال

مصراس وقت اپنی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے۔

ابنا: اخوان المسلمین نے منگل کے روز سول نافرمانی کی  تحریک کی دعوت دی تھی اور محمد مرسی کی برطرفی کے بعد پہلی بار اس جماعت کے حامیوں نے قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر مظاہرہ کیا۔ تحریر اسکوائر وہ جگہ ہے کہ جہاں سے مصری عوام نے آمرانہ نظام کے خلاف اپنی تحریک شروع کی تھی۔ اس وقت بھی انہیں امید ہے کہ مصر کے موجودہ حکمرانوں کے خلاف تحریک کی نئی لہر وجود میں آئے گی۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی مصر کی فوج نےاعلان کیا کہ کل قاہرہ کے مشرق میں واقع علاقےاسماعیلیہ میں فوجی اہلکاروں اور مسلح افراد کے مابین ہونے والی جھڑپ میں 4 حملہ آور ہلاک ہو گئے۔جولائی کے مہینے میں جب مرسی کی حکومت کو ختم کیا گيا اس کے بعد سے مصر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو تھمنے کل نام نہیں لے رہا۔ مصر میں جاری سیاسی کشمکش ،احتجاجی مظاہرے، پر تشدد واقعات اور بدامنی کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان دنوں تمام سیاسی ماہرین مصر میں رونما ہونے والے واقعہ یعنی قانونی صدر کی برکناری اور فوج کے دوبارہ برسراقتدار آنے کو ایک غیرجمہوری قدم قرار دیتے ہوئے اسے جمہویت کے اعتبار سے پیچھے کی جانب ایک قدم قرار دیتے ہیں۔ ہر چند کہ جمہوریت پیچیدہ ترین نظام حکومت ہے۔ لیکن ٹھیک ایک سال پہلے مصر کے صدارتی انتخابات میں اسلام پسند گروہوں کے نمائندے کے طور پر جناب محمد مرسی کی کامیابی نے دنیا والوں کو اس ملک میں جمہوریت کے پہلے مرحلے کے آغاز کی نوید دلائی تھی۔ ان انتخابات نے جس میں ووٹوں کے بہت کم اختلاف سے جناب محمد مرسی کامیاب قرار پائے تھے، مصر میں نیا سیاسی ماحول ایجاد کر دیا تھا جو اکثر سیاسی ماہرین اور سیاست دانوں کی جانب سے خوش بینانہ تجزیات اور پیش بینیوں کے باوجود زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور مصر ایک بار پھر ایک ایسی فوجی بغاوت کا شکار ہو گیا جس میں عوامی مطالبات نے مرکزی کردار ادا کیا۔ البتہ صدارتی انتخابات کے اگلے ہی دن سے مصر دو قطبی معاشرے کی طرف گامزن ہو گیا۔ جناب محمد مرسی کے مقابلے میں شکست کھانے والے سیاسی مخالفین جن کی تعداد 49 فیصد تھی اس شکست کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ سکولر قوتوں نے حکومت میں اسلام پسند عناصر کی موجودگی پر تنقید کرنا شروع کر دی۔ دوسری طرف مصری جوانوں نے اخوان المسلمین پر یہ الزام لگانا شروع کردیا کہ وہ عوامی انقلاب کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ مصر کی سابق حکومت سے وابستہ عناصر نے بھی جناب محمد مرسی کو سابق صدر حسنی مبارک کی طرح اقتدار کو اپنے اور اپنی حامی اخوان المسلمین کے مکمل قبضے میں لینے کی کوششوں میں مشغول پایا۔ معتدل اور شدت پسند اسلام پسند عناصر جیسے اخوان المسلمین اور سلفی گروہوں نے اس کامیابی کے دائرے میں مصری معاشرے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔ مصر کے انقلابی معاشرے میں اخوانی اور سلفی اسلام پسند عناصر کا پہلا قدم ہی اس قدر ناقابل برداشت تھا کہ ان کی حکومت کے آغاز سے ہی مصر میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا اس انداز کا اسلام مصری عوام کی فردی اور اجتماعی زندگی میں ہونا چاہئے یا نہ؟ اس تناو کے نتیجے میں مذہبی فسادات رونما ہوئے اور کئی جانیں جاتی رہیں ۔ جناب محمد مرسی اور ان کے حامیوں کی جانب سے اسلامی شریعت پر سختی سے عمل پیرا ہونے اور عوامی احتجاج اور اعتراضات کو یکسر نظرانداز کر دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ملک کے نئے آئین میں بھی اپنی جماعت اخوان المسلمین کی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر مصر کی دوسری سیاسی جماعتوں اور قوتوں حتی مصری فوج کیلئے انتہائی پریشان کن ثابت ہوا اور ان کی جانب سے سنجیدہ ردعمل ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ جناب محمد مرسی نے صدر مملکت ہونے کے ناطے سپریم کورٹ کے جج اور جنرل طنطاوی سمیت کئی اعلی فوجی کمانڈروں کو معزول کر کے ملک کے دو خودمختار اور ہردلعزیز اداروں یعنی عدلیہ اور فوج کو اپنا نشانہ بنایا۔ اس طرح انہوں نے اپنے اور مصری معاشرے خلاف نئی دشمنیوں کی بنیاد رکھی اور سیاسی مخالفین کو مزید تنقید کا موقع فراہم کیا۔ لیکن جناب محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے میں اور بھی کئی قسم کے عوامل کارفرما تھے جیسا کہ مصری معاشرے کی پیچیدہ صورتحال، خطے اور عالمی سطح پر جناب محمد مرسی کی خارجہ پالیسی۔ اس کے علاوہ شام کا بحران، عراق میں بدامنی کی شدید لہراور ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں نے امریکہ کے اندر یہ پریشانی پیدا کر دی تھی کہ کہیں مشرق وسطی میں اسلام پسند قوتیں زور نہ پکڑ لیں کیونکہ اس صورت میں اسرائیل کی قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ امریکہ مصر میں آنے والی سیاسی تبدیلی سے خوش بھی ہے اور امیدوار بھی اگرچہ امریکہ نے کھلم کھلا اس بات کا اظہار نہیں کیا۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے معروف صحافی جاوید نقوی کا انٹرویو ملاحظہ کیجئے.

.......

/169